کیس ریکارڈ · اسلام آباد
اسلام آباد کی عدالتوں میں بھائیوں ولی اللہ بن ظفر اور ابو ہریرہ بن ظفر کے خلاف دو دیوانی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ دونوں مہینوں تک باضابطہ تعمیلِ سمن سے گریزاں رہے اور طلبی پر حاضر نہ ہوئے؛ عدالت نے اب دونوں مقدمات میں اخبار کے ذریعے نوٹس کی اشاعت کا حکم دیا ہے۔
Read this record in Englishاحسان الحق زبیری نے خاندان ہی کے دو افراد کے خلاف دو دیوانی مقدمات دائر کر رکھے ہیں — ایک متنازع واجبات کی وصولی کا، دوسرا ہتکِ عزت کا — جن میں مدعا علیہان مہینوں باضابطہ تعمیل سے بچتے رہے اور سماعتوں پر حاضر نہ ہوئے۔ عدالت نے اب دونوں مقدمات میں اخباری نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے الگ، مدعی کی وکیل ایڈووکیٹ سنینہ جاوید نے ایف آئی اے میں فوجداری شکایات درج کرائی ہیں، جن میں انہوں نے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے خلاف ہراسانی اور کردار کشی کی مہم بیان کی ہے۔
اسلام آباد — اسلام آباد کی عدالتوں نے دو الگ الگ دیوانی مقدمات میں بھائیوں ولی اللہ بن ظفر — جو ولی زبیری یا ولی اللہ زبیری کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں — اور ابو ہریرہ بن ظفر، جنہیں ابو ہریرہ زبیری بھی کہا جاتا ہے، کے خلاف اخباری نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ دونوں بار بار عدالتی سمن کی تعمیل سے بچتے رہے اور سماعتوں پر پیش نہ ہوئے۔ بھائیوں کو اپنے ہی رشتہ دار، آئی ٹی کاروباری شخصیت احسان الحق زبیری کے دائر کردہ ایک کروڑ 45 لاکھ روپے کے ریکوری سوٹ اور ایک کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے کا سامنا ہے، جن میں ان کے کال سینٹر کاروبار الرحمان کمیونیکیشن — جسے ولی کال سینٹر یا ابو ہریرہ کال سینٹر بھی کہا جاتا ہے — کے سلسلے میں فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ابو ہریرہ کے نام کا نوٹس 23 جولائی کو سما نیوز کے اسلام آباد ایڈیشن میں شائع ہوا۔ اس سے قبل 6 جولائی کی سماعت میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ دونوں افراد بظاہر تعمیلِ سمن سے گریز کر رہے ہیں: عام سمن بلا تعمیل واپس آئے، اور واٹس ایپ کے ترسیلی ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ ایک پیغام پڑھ لیا گیا مگر اس کا جواب کبھی نہ دیا گیا۔ عدالت نے اگلی تاریخ سے پہلے ولی اللہ پر کورئیر، ڈاک اور واٹس ایپ — تینوں ذرائع سے ازسرِنو تعمیل کی ہدایت کی ہے۔
تنازعہ دو دیوانی محاذوں پر لڑا جا رہا ہے۔ پہلا ریکوری سوٹ ہے، جس کا موضوع وہ آئی ٹی اور سی آر ایم خدمات ہیں جو مدعی کے بقول ان کے ادارے نے اگست تا نومبر 2024 میسرز الرحمان کمیونیکیشن — دونوں بھائیوں کے چلائے ہوئے کال سینٹر کاروبار — کو فراہم کیں۔ عدالتی دستاویزات میں فراہم کردہ خدمات کی مالیت ایک کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے، جس کے مقابل تقریباً 16 لاکھ روپے ادا ہوئے — یہی متنازع بقایا اب دعوے کا موضوع ہے۔
مدعا علیہان نے اپنی وکیل ایڈووکیٹ حنا رفقت علی کے توسط سے 19 جون کے تحریری جواب میں کاروباری لین دین اور جزوی ادائیگیوں کو تسلیم کیا؛ اختلاف صرف واجب الادا رقم پر کیا۔ اسی جواب میں مدعی کے ان کے کھاتوں اور کاروباری ریکارڈ تک رسائی کے مطالبے کو "فشنگ اینڈ روونگ انکوائری" قرار دے کر مسترد کیا گیا، اس بنیاد پر کہ اس سے خفیہ کاروباری اور فریقِ ثالث کا ڈیٹا ظاہر ہو جائے گا۔ کسی ذمہ داری کو تسلیم کیے بغیر ایک محدود اور مشروط آزاد تصدیقی عمل کی پیش کش کی گئی — بشرطیکہ مدعی پہلے متنازع مواد کی نشاندہی کریں اور رازداری کی شرائط پر آمادہ ہوں۔ جواب میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ مدعی کے اصل نوٹس کی ڈاک کے ذریعے باضابطہ تعمیل مکمل نہیں ہوئی، اور کاروباری ڈیٹا کے مبینہ غلط استعمال پر جوابی دعووں کا حق محفوظ رکھا گیا۔
دوسرا مقدمہ انہی دونوں بھائیوں کے خلاف ہتکِ عزت کا ہے، جس میں ایک کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دعوے کے مطابق 2024 کے آخر میں کاروباری تعلق ختم ہونے کے بعد خاندانی واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے ساکھ پر مسلسل اور منظم حملوں کی مہم چلائی گئی۔ 29 جولائی 2026 کی پہلی سماعت پر نہ ولی اللہ حاضر ہوئے، نہ ابو ہریرہ۔ عدالت نے کال اپ نوٹس جاری کرتے ہوئے سمن کی اخبار میں اشاعت کی ہدایت کی — بھائیوں کے خلاف اشاعت کا یہ دوسرا حکم ہے؛ پہلا ریکوری سوٹ میں ہو چکا ہے۔
خاندان کے ایک الگ فرد حمیر زبیری سے متعلق ہتکِ عزت کا دعویٰ جداگانہ طور پر زیرِ کارروائی ہے اور ولی اللہ اور ابو ہریرہ کے خلاف مقدمے کا حصہ نہیں۔
دیوانی مقدمات سے الگ، مدعی کی وکیل ایڈووکیٹ سنینہ جاوید نے اسلام آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان دونوں مقامات پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں فوجداری شکایات درج کرائی ہیں، جن میں انہوں نے خود کو متاثرہ فریق قرار دیا ہے۔ شکایات میں انہوں نے اپنی ذات اور اپنے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے والی ہراسانی کی مہم بیان کی ہے، جس میں ایک بین الاقوامی نمبر سے بھیجے گئے جنسی طور پر ہتک آمیز اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والے پیغامات شامل ہیں۔ ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ یہ پیغامات انہیں اور ان کے قریبی اہلِ خانہ کو بھیجے گئے، اور انہوں نے یہ مواد بطور شہادت باضابطہ طور پر ایف آئی اے کے حوالے کیا۔
جولائی کے اواخر تک ایف آئی اے نے ڈیرہ اسماعیل خان کی شکایت پر باقاعدہ ایف آئی آر درج نہیں کی تھی۔ البتہ تفتیش کاروں نے تکنیکی مواد — جس میں ڈیوائس کے شناختی نمبر اور سیل ٹاور لوکیشن ڈیٹا شامل ہے — اکٹھا کر لیا ہے، جس کا جاری انکوائری کے تحت جائزہ لیا جا رہا ہے، اور اسی سلسلے میں ایف آئی اے کی ایک فیلڈ ٹیم بھائیوں میں سے ایک سے منسلک پتے کا دورہ بھی کر چکی ہے۔ ابو ہریرہ نے ایف آئی اے کو تحریری جواب میں شکایت کا نوٹس ملنے کا اعتراف کیا مگر الزامات تسلیم نہیں کیے، اور مطالبہ کیا کہ بنیادی شواہد ان سے شیئر کیے جائیں۔ ہراسانی کے الزامات پر دونوں بھائیوں میں سے کسی نے عوامی سطح پر کوئی جواب نہیں دیا۔
ریکوری سوٹ کی اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہے، جس سے پہلے اخباری اشاعت اور ولی اللہ پر ازسرِنو تعمیل مکمل ہونی ہے۔ ہتکِ عزت کے مقدمے میں 29 جولائی 2026 کی عدم حاضری کے بعد کال اپ نوٹس کی اشاعت کا حکم ہو چکا ہے۔ قانون کے تحت جب باضابطہ اشاعت کے باوجود مدعا علیہ حاضر نہ ہو تو عدالت یک طرفہ کارروائی کر سکتی ہے — یعنی صرف مدعی کی شہادت سن کر مقدمے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
ایف آئی اے کی دونوں شکایات دیوانی مقدمات سے آزادانہ طور پر جاری ہیں، جن میں تفتیش کار مذکورہ تکنیکی شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایک ہی فریق یا کاروبار عدالتی دستاویزات، نوٹسز اور خط و کتابت میں مختلف املا کے ساتھ آتا ہے۔ یہ فہرست انہی متبادل ناموں کی ہے:
یہ ریکارڈ عدالت میں دائر دستاویزات، عدالتی احکامات اور ضابطۂ دیوانی کے تحت شائع شدہ نوٹسز سے مرتب کیا گیا ہے۔ بیان کردہ الزامات پر ابھی کوئی ٹرائل نہیں ہوا۔ کسی مدعا علیہ کے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ فردِ جرم عائد ہوئی ہے؛ مدعا علیہان ریکوری سوٹ میں ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں اور باقی الزامات پر انہوں نے عوامی طور پر کوئی موقف نہیں دیا۔ اس صفحے کی کوئی بات کسی عدالت کا فیصلہ یا قرار نہیں۔
عام سوالات
جب مدعا علیہ پر ذاتی طور پر سمن کی تعمیل ممکن نہ رہے — یا وہ جان بوجھ کر تعمیل سے بچ رہا ہو — تو ضابطۂ دیوانی کے حکم نامہ 5 کے تحت عدالت متبادل تعمیل کا حکم دے سکتی ہے، جس کی عام صورت یہ ہے کہ سمن ایسے روزنامے میں شائع کیا جائے جو اس علاقے میں گردش کرتا ہو جہاں مدعا علیہ کی رہائش سمجھی جاتی ہے۔ قانوناً یہ اشاعت درست تعمیل تصور ہوتی ہے: شائع ہونے کے بعد مدعا علیہ کو نوٹس مل جانا سمجھا جاتا ہے، خواہ اس نے اشتہار پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ اس مقدمے میں عدالت دو بار — ہر دعوے میں ایک بار — اشاعت کا حکم دے چکی ہے۔
عدالت یک طرفہ (ایکس پارٹے) کارروائی کر سکتی ہے، یعنی صرف مدعی کی شہادت سن کر مقدمے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ تاہم مدعی کو پھر بھی اپنا دعویٰ ثابت کرنا پڑتا ہے؛ عدم حاضری خود بخود کامیابی نہیں بن جاتی۔ اگر مدعا علیہ بعد میں اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ ثابت کر دے تو وہ حکم نامہ 9 قاعدہ 13 کے تحت یک طرفہ ڈگری منسوخ کرانے کی درخواست دے سکتا ہے — چنانچہ غیر حاضر رہنے والا فریق مقدمے سے بچتا نہیں، صرف اسے طول دیتا ہے۔
یہ بذاتِ خود تعمیل نہیں، لیکن عدالتیں یہ طے کرتے وقت اسے ضرور پیشِ نظر رکھتی ہیں کہ آیا مدعا علیہ دانستہ گریز کر رہا ہے۔ یہاں عدالت نے ریکارڈ پر لیا کہ عام سمن بلا تعمیل واپس آئے جب کہ واٹس ایپ کے ترسیلی ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ ایک پیغام پڑھا گیا مگر جواب نہیں دیا گیا — یہی مجموعہ متبادل تعمیل کے حکم کی بنیاد بنتا ہے، اور عدالتیں اب اکثر کورئیر، ڈاک اور واٹس ایپ تینوں ذرائع سے بیک وقت تعمیل کی ہدایت کرتی ہیں۔
یہ دو الگ راستے ہیں جن کے ازالے بھی الگ ہیں۔ ہتکِ عزت کا دعویٰ دیوانی نوعیت کا ہے: متاثرہ شخص خود دیوانی عدالت میں دائر کرتا ہے اور ہرجانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایف آئی اے کو دی جانے والی شکایت الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ 2016 کے تحت فوجداری ہے: اس میں ریاست سے تفتیش اور، اگر جواز بنے، ایف آئی آر کے اندراج اور استغاثہ کی استدعا کی جاتی ہے۔ ایک کا انحصار دوسرے پر نہیں، اور دونوں ایک ہی واقعات پر بیک وقت چل سکتے ہیں — جیسا کہ اس مقدمے میں ہو رہا ہے۔
کوئی مقررہ مدت نہیں۔ ایک سادہ ریکوری سوٹ، جس میں مدعا علیہ حاضر ہو کر تحریری جواب داخل کر دے، شہادت اور بحث سے گزرتے ہوئے عموماً ایک سے تین سال لیتا ہے؛ جہاں تعمیل ہی اشاعت کے ذریعے کرانی پڑے، جیسا کہ اس مقدمے میں ہوا، وہاں مدعا علیہ کے باضابطہ طور پر عدالت کے سامنے آنے سے پہلے ہی کئی ماہ صرف ہو سکتے ہیں۔ قابلِ انتقال دستاویزات پر مبنی دعوے حکم نامہ 37 کے مختصر طریقِ کار کے تحت نسبتاً تیز چلتے ہیں۔
کافی حد تک۔ جب تحریری جواب میں لین دین اور جزوی ادائیگیاں تسلیم کر لی جائیں اور اختلاف صرف رقم پر رہ جائے، تو معاہدے کا وجود متنازع نہیں رہتا اور مقدمہ سمٹ کر اس نکتے پر آ جاتا ہے کہ اصل واجب الادا رقم کتنی ہے۔ اس سے بحث کھاتوں پر منتقل ہو جاتی ہے — یہی وجہ ہے کہ دفاتر اور ریکارڈ تک رسائی اکثر سب سے متنازع نکتہ بن جاتی ہے، جیسا کہ اس مقدمے میں ہے۔
یہ دونوں مقدمات میں مدعا علیہان ہیں — آپس میں بھائی، اور مدعی احسان الحق زبیری کے رشتہ دار۔ ریکارڈ میں ان کے نام کئی املا کے ساتھ آتے ہیں: ولی اللہ بن ظفر کو ولی زبیری اور ولی اللہ زبیری بھی لکھا گیا ہے (انگریزی میں Wali Ullah bin Zafar، Wali Zuberi، Wali Ullah Zuberi)، جب کہ ابو ہریرہ بن ظفر ابو ہریرہ زبیری کے نام سے بھی آتے ہیں (Abu Hurerah bin Zafar، Abu Hurerah Zuberi)۔ دونوں مل کر کال سینٹر کا کاروبار الرحمان کمیونیکیشن چلاتے رہے ہیں۔ کسی بھی مقدمے کی کسی سماعت پر ان میں سے کوئی حاضر نہیں ہوا، اور عدالت دو مرتبہ ان کے خلاف اخبار میں سمن کی اشاعت کا حکم دے چکی ہے۔
یہ ایک ہی کاروبار کے مختلف نام ہیں۔ الرحمان کمیونیکیشن — جسے عدالتی دستاویزات میں میسرز الرحمان کمیونیکیشن لکھا گیا ہے اور انگریزی میں Al Rehman Communication یا Al Rahman Communication — وہ کال سینٹر ہے جو ولی اللہ بن ظفر اور ابو ہریرہ بن ظفر چلاتے ہیں، اور عام طور پر اسے دونوں بھائیوں میں سے کسی ایک کے نام سے پکارا جاتا ہے، یعنی ولی کال سینٹر (Wali Call Center) یا ابو ہریرہ کال سینٹر (Abu Hurerah Call Center)۔ ریکوری سوٹ انہی آئی ٹی اور سی آر ایم خدمات سے متعلق ہے جو مدعی کے بقول ان کے ادارے نے اگست تا نومبر 2024 اس کاروبار کو فراہم کیں، جن کی مالیت ایک کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی اور جن کے مقابل تقریباً 16 لاکھ روپے ادا ہوئے۔ مدعا علیہان کے 19 جون کے تحریری جواب میں یہ کاروباری لین دین اور جزوی ادائیگیاں تسلیم کی گئی ہیں اور اختلاف صرف واجب الادا رقم پر ہے۔
نہیں۔ فراڈ کا الزام مدعی کی دستاویزات میں عائد کیا گیا ہے؛ اس پر ابھی ٹرائل نہیں ہوا اور کسی عدالت نے دونوں میں سے کسی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ کسی بھی نام کے ساتھ "فراڈ" لکھ کر تلاش کرنے پر جو نتائج ملتے ہیں وہ الزامات ہیں، ثابت شدہ حقائق نہیں — اور یہ فرق اہم ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے: ریکوری سوٹ ابھی تعمیلِ سمن کے مرحلے پر ہے اور اگلی سماعت 15 ستمبر کو ہے؛ ہتکِ عزت کے مقدمے میں دونوں کی عدم حاضری کے بعد کال اپ نوٹس کی اشاعت کا حکم ہوا ہے؛ اور ایف آئی اے کی سائبر کرائم شکایات میں نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ کسی کے خلاف فردِ جرم عائد ہوئی ہے۔ مدعا علیہان ریکوری سوٹ میں ذمہ داری سے انکار کرتے ہیں اور باقی الزامات پر انہوں نے عوامی سطح پر کوئی موقف نہیں دیا۔
دونوں مقدمات میں سمن کی اخبار میں اشاعت کا حکم ہو چکا ہے — ابو ہریرہ کے نام کا نوٹس 23 جولائی کو سما نیوز کے اسلام آباد ایڈیشن میں شائع ہوا — اور شائع شدہ نوٹس بذاتِ خود ایک عوامی دستاویز ہوتا ہے۔ مقدمات کی فائلیں اسلام آباد کی دیوانی عدالتوں میں موجود ہیں اور عام قواعد کے تحت وکیل کے ذریعے یا مصدقہ نقول کی درخواست دے کر ان کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی معاملے میں اس ریکارڈ پر انحصار کرنا چاہے، اسے اس صفحے کے بجائے عدالت کی موجودہ فائل دیکھنی چاہیے: ہر سماعت پر صورتِ حال بدلتی ہے، اور یہ ریکارڈ اوپر درج تاریخ تک کی پوزیشن بیان کرتا ہے۔